کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اِثْبَات (یعنی ہاں) میں جواب دیا اور چند جو کی روٹیاں نِکال لائیں، پھر اپنا ایک دوپٹہ نِکالا اور اس کے ایک پلے میں روٹیاں لپیٹ دیں پھر روٹیاں میرے (یعنی حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے) سپرد کر کے باقی دوپٹہ میرے سر پر لپیٹ دیا اور مجھے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بھیج دیا۔ میں روٹیاں لے کر گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسجد میں پایا، آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا تو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: کھانا دے کر؟ پھر عرض کیا: جی ہاں۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان لوگوں سے فرمایا جو آپ کے ساتھ تھے: اُٹھو! پھر آپ چل پڑے۔ میں ان سے آگے چل دیا اور حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آ کر انہیں خبر دی ۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اے اُمِّسُلَیْم! رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو لے کر (غریب خانے پر) تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس انہیں کِھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ پھر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چل پڑے حتی کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جا پہنچے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں اپنے ساتھ لئے گھر تشریف لائے اور حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: اے اُمِّ سُلَیْم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ۔ انہوں نے وہی روٹیاں حاضِرِ خدمت کر دیں۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے ٹکڑے کئے ۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کُپّی نچوڑ کر سارا گھی بطور سالن نکال لیا۔ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس پر وہی کچھ پڑھا جو خدا نے چاہا پھر فرمایا کہ دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو۔ انہیں اجازت دی گئی، انہوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا اور چلے گئے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو۔ انہیں اجازت دی گئی، انہوں نے بھی سیر ہو کر کھانا کھایا اور چلے گئے اور پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہی فرمایا کہ دس