Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
41 - 58
 طرح رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سرایت کی ہوئی تھی اس کا اظہار آپ کے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں تحفے اور ہدایا نذر کرنے سے بھی ہوتا ہے، یہاں اس تَعَلُّق سے آپ کے چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں چنانچہ
بیٹے کو خدمت گزاری کے لئے پیش کرنا
آپ ہی کے جگر پارے حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم  (ہجرت فرما کر)  مدینہ طَیِّبہ تشریف لائے تو میری ماں میرا ہاتھ پکڑے حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوئیں اور عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم!  انصار میں سے کوئی مرد وعورت باقی نہیں رہا جس نے آپ کی بارگاہ میں تحفہ نہ پیش کیا ہو،  میرے پاس بارگاہِ اقدس میں پیش کرنے لائق کوئی شے نہیں البتہ یہ میرا بیٹا ہے، اسے قبول فرما لیجئے، یہ آپ کے مُعَامَلات میں خدمت کیا کرے گا۔ (1)  سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں قبول فرما لیا اور یہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمانے تک خدمت گزاری کا شَرَف حاصِل کرتے رہے۔
جو شریف کی روٹیوں کا تحفہ
حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: میں نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آواز سنی ہے جس میں ضعف محسوس ہوتا ہے، میرے خیال میں یہ بھوک کی وجہ سے ہے،



________________________________
1 -   مسند ابى يعلى، مسند انس بن مالك   الخ، شريك عن انس، ٣ / ١٩٤، حديث:٣٦٢٤، ملتقطًا.