Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
40 - 58
 پیچھے پڑنا اور بغیر اس کے تعظیم وتبرُّک سے باز رہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے، ائمہ دین نے صرف حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔ (1)  مزید فرماتے ہیں کہ تعظیم کے لئے نہ یقین درکار ہے نہ کوئی خاص سند بلکہ صرف نامِ پاک سے اس شے کا اشتہار  (مشہور ہونا)  کافی ہے، ایسی جگہ بے اِدْرَاکِ سَنَد تعظیم سے باز نہ رہے گا مگر بیمار دل، پُر آزار دل جس میں نہ عظمتِ شانِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم بَروَجْہِ کافی نہ ایمان کامِل۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-  (پ٢٤، المؤمن:٢٨) 
 اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر اور اگر سچا ہے تو تمہیں پہنچ جائیں گے بعض وہ عذاب جن کا وہ تمہیں وعدہ دیتا ہے۔
اور خصوصاً جہاں سند بھی موجود ہو پھر تو تعظیم واِعْزَاز وتکریم سے باز نہیں رہ سکتا مگر کوئی کھلا کافِر یا چُھپا مُنَافِق، وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی۔ اور یہ کہنا کہ آج کل اکثر لوگ مصنوعی تبرُّکات لئے پھرتے ہیں مگر یوہیں مجمل بِلاتعیینِ شخص ہو یعنی کسی شخصِ مُعَیَّن پر اس کی وجہ سے اِلْزَام یا بدگمانی مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں اور بِلاثبوت شرعی کسی خاص شخص کی نسبت حکم لگا دینا کہ یہ انہیں میں سے ہے جو مصنوعی تبرُّکات لئے پھرتے ہیں، ناجائز وگناہ وحرام ہے کہ اس کا منشا صرف بدگمانی ہے اور بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں۔ (2)  
بارگاہِ رسالت میں         تحائف پیش کرنے کا سلسلہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو!  حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے رگ وریشہ میں جس



________________________________
1 -   فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۴۱۲.
2 -   فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۴۱۵.