Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
39 - 58
 کرنا)  بِلاشبہ جائز ومستحسن  (یعنی اچھا عمل)  ہے جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے زمانۂ اقدس سے لے کر آج تک مسلمانوں میں رائج ومعمول ہے۔ یہاں یہ بات بھی خیال میں رہے کہ جن چیزوں کو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت وتَعَلُّق ہو ان کی تعظیم حقیقت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہی تعظیم ہے چنانچہ شِفا شریف میں ہے: ”حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام چیزیں جو حُضُور سے نسبت رکھتی ہیں ان کی تعظیم کی جائے اور مَکَّہ مُکَرَّمَہ و مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ کے جن مقامات کو آپ نے شرف بخشا ان کا بھی ادب واحترام کیا جائے اور جن جگہوں میں آپ نے قیام فرمایا اور وہ ساری چیزیں کہ جن کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مس فرمایا  (یعنی چھوا)  یا جو آپ کی طرف منسوب ہونے کی شہرت رکھتی ہیں ان سب کی تعظیم وتکریم کی جائے۔“ (1)  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کیا تبرکات کی   تعظیمکے لئے یقینی ثبوت درکار ہے؟ 
یہاں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تبرکاتِ مقدسہ کی تعظیم کے لئے کسی یقینی قطعی ثبوت کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے فقط یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نام پاک سے معروف اور مشہور ہوں جیسا کہ ابھی شِفا شریف کی عبارت گزری اس میں واضح لفظوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو چیزیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب ہونے کی شہرت رکھتی ہیں ان سب کی تعظیم وتکریم کی جائے۔ آئیے!  اس سے متعلق اعلیٰ حضرت، اِمام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا کلام مُلَاحظہ کیجئے، آپ فرماتے ہیں کہ ایسی جگہ ثبوتِ یقینی یا سَنَدِ مُحَدِّثانہ کی اصلاً حاجت نہیں، اس کی تحقیق وتنقیح کے



________________________________
1 -    شفا، القسم الثانى، الباب الثالث، فصل و من اعظامه واكباره، الجزء الثانى، ص٤٧.