(۱) ..حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کےنماز پڑھنے کی جگہ سے تبرک
حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میری والِدہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گھر تشریف لا کر نماز ادا فرمانے کی درخواست کی تا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نماز ادا فرمانے کی جگہ کو مصلّی بنا لیں (اور آیندہ حُصُولِ برکت کے لئے گھر والے وہیں نماز ادا کیا کریں) ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے درخواست قبول فرمائی اور گھر تشریف لے آئے۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک چٹائی کی جانب بڑھیں اور اس پر پانی کا چھڑکاؤ کر (کے گرد وغبار صاف کر) دیا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (اس پر) نماز ادا فرمائی اور آپ کے ساتھ (یعنی آپ کی اقتداء میں) گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔ (1)
حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے ہی ایک اور روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم نے ہمارے گھر میں سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی اِقْتِدا میں نماز ادا کی اور میری والِدہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہم سے پیچھے تھیں۔ (2) خیال رہے کہ یہ یتیم جن کا اس روایت میں ذکر ہوا حضرت ضمیرہ بن ابوضمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں، ان دونوں نے یعنی حضرت ضمیرہ اور ان کے والِد حضرت ابو ضمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے سركار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحابیت کا شرف پایا۔ (3)
________________________________
1 - العلل الكبير، ابواب الصلاة، فى الرجل يصلی ومعه الخ، ص٦٧، حديث:٩٦.و معجم الاوسط، من اسمه محمد، ٥ / ٢٩، حديث:٦٤٨١.
2 - بخاری، كتاب الاذان، باب المراة وحدها تكون صفا، ص٢٣٩، حديث:٧٢٧.
3 - عمدة القارى، كتاب الاذان، باب المراة وحدها تكون صفا، ٤ / ٣٦٣، تحت الحديث:٧٢٧.