Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
35 - 58
؎	محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
پیاری پیاری اسلامی بہنو!  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان محبتِ رسول کے سب سے بلند مقام پر فائز تھے اور حقیقت میں سرکارِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم انہیں اپنے والِدَین، اولاد، مال، جان، عزت وآبرو غرض ہر شے سے بڑھ کر محبوب تھے جس کا واضح ثبوت انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے پیش کیا؛ ہجرت کا کٹھن موقع ہو یا بدر وحنین  کی آزمائشیں، تبلیغِ دین کی خاطر مال و جان کی ضرورت پیش آئی ہو یا کفارِ بد اطوار نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہوں، کبھی ان فدایانِ رسول کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ اپنا سب کچھ اپنے آقائے کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر قربان کر دیتے اور زبان حال سے گویا یوں کہہ رہے ہوتے : 
؎	مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے
ان کی محبتِ رسول کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ چیزیں جنہیں پیارے کریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ والا سے کچھ تعلق اور نسبت ہوتی ان کی تعظیم وتوقیر اور ادب واحترام بھی یہ اپنے اوپر لازِم جانتے تھے، اسلام کی روشن وتابناک تاریخ ان حضرات کے ایسے عشق ومحبت سے لبریز جذبات اور واقعات سے بھری ہوئی ہے لیکن یہاں موضوع کی مُنَاسَبَت سے فقط حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حیاتِ مُبَارَکہ کے چند واقعات بیان کیے جاتے ہیں، مُلَاحظہ کیجئے: