اونٹ پر سوار تھیں اور اپنے پاس خنجر رکھا ہوا تھا جیسا کہ آپ ہی کے شہزادے حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جنگ حنین کے دن ایک خنجر لیا جو ان کے پاس تھا، حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ خنجر دیکھ لیا، انہوں نے کہا: یَارَسُولَ اللہ! یہ اُمِّ سُلَیْم ہیں اور ان کے پاس ایک خنجر ہے۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے دَرْیَافت فرمایا کہ یہ خنجر کیسا ہے؟ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کیا: میں نے یہ خنجر اس لئے لیا ہے کہ اگر کوئی مُشْرِک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرانے لگے۔ (1)
رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے محبّت وعقیدت
محبتِ رسول ایمان کی جان ہے، اس کے بغیر ایمان کا مکمل ہونا اتنا ہی دشوار ہے جتنا بغیر روح کے جسم کا زندہ ہونا، بلاشبہ جس دل میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے عشق کی شمع فروزاں نہ ہو وہ لاکھ ایمان کے دعوے کرے کبھی سچا پکا مؤمن ہرگز نہیں ہو سکتا، نہ ایمان کی حلاوت پا سکتا ہے۔بخاری شریف کی حدیثِ طَیِّبہ ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن یعنی تم میں سے کوئی اس وَقْت تک مومن نہیں ہو سکتاجب تک اس کے والِدَین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر میں اس کا محبوب نہ ہو جاؤں۔“ (2) اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے:
________________________________
1 - مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة النساء مع الرجال، ص٧٢٤، حديث: ١٨٠٩.
2 - بخاری، كتاب بدء الايمان، باب حب الرسول صلى الله عليه وسلم من الايمان، ص٧٤، حديث:١٥