Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
33 - 58
 آپ اور آپ کے شوہر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمات بہت نمایاں ہے چنانچہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد میں جب لوگ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چھوڑ کر دُور نکل گئے تھے تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے لیے ڈھال کی طرح بن کر رہے۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے اچھے تیر انداز تھے اور ان کی کمان کی تانت (1)  بڑی سخت تھی۔ اس روز ان کی دو۲ یا تین۳ کمانیں ٹوٹی تھیں۔ جب کوئی شخص ترکش لے کر ادھر سے گزرتا تو رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے: تیروں کو ابوطلحہ کے آگے ڈال دو۔ ایک مرتبہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سر اونچا کر کے مُعَاینہ فرمانے لگے تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عرض گُزَار ہوئے: اے اللہ کے نبی!  میرے ماں باپ آپ پر قربان، سر اونچا کر کے نہ دیکھئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کافِروں کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کے آگے  (ڈھال)  ہے۔ 
اور میں نے اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ اور حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو دیکھا کہ دونوں نے اپنے پائنچے کچھ اوپر کئے ہوئے تھے جس سے پاؤں کے زیور نظر آتے تھے اور اپنی پیٹھ پر مشکیں لاد کر لا رہی تھیں اور پیاسے مسلمانوں کو پانی پِلانے میں مصروف تھیں پھر واپس جانا اور پانی لے کر آنا، یہی ان کا معمول رہا۔ (2)  
غزوہ حُنَین میں شرکت
اسی طرح غزوۂ حنین میں بھی آپ کے شریک ہونے کا ذِکْر ملتا ہے، اس میں آپ ایک 


________________________________
1 -    ایک قسم کا دھاگہ جو کمان کے دونوں کناروں پر باندھ کر تیر چلانے کے کام آتا ہے۔
2 -   بخارى، كتاب مناقب الانصار، باب مناقب ابى طلحة، ص٩٦٠، حديث:٣٨١١.