اَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ اَنْ نَّـكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ حق بیان فرمانے سے نہیں شرماتا، بےشک ہمیں جو اشکال پیش آئے اس کے متعلق نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے دَرْیَافت کر لینا لاعِلْم رہنے سے بہتر ہے۔“ (1)
یقیناً عِلْمِ دین سیکھنا اور جو مسئلہ نہ معلوم ہو اسے عِلْم والوں سے پوچھ لینا لاعِلْم رہنے سے بہتر ہے۔ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت سے ہمیں اس بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔ اے کاش! ان کے صدقے ہمیں بھی عِلْم حاصل کرنے کا جذبہ اور شوق نصیب ہو جائے۔
؎ زندگی ہو مِری پروانے کی صورت يا ربّ!
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت يا ربّ! (2)
(۴) ...شجاعت وبہادری
شجاعت بھی ایک عمدہ وَصْف ہے اور بہت سارے خَصَائِلِ حمیدہ کا سرچشمہ ہے۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس وَصْف میں بھی امتیازی شان کی حامِل تھیں، آپ نے متعدد غزوات میں شریک ہو کر پانی پلانے، زخمیوں کا علاج کرنے اور مختلف طرح کے اُمُور سرانجام دئیے۔ مسلم شریف میں حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایت ہے کہ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت اُمِّ سُلَیْم اور کچھ انصاری بیبیوں کو لے کر جہاد فرماتے تھے جب آپ جہاد کرتے تو یہ بیبیاں پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتیں۔ (3)
غزوۂ اُحُد میں شر کت
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا غزوۂ اُحُد میں بھی شریک ہوئی ہیں، اس غزوے میں
________________________________
1 - مسند امام احمد، مسند النساء، حديث ام سليم رضى الله عنها، ١١ / ١٩٥، حديث:٢٧٨٧٩.
2 - کلیات اقبال، بانگ درا، حصَّہ اوَّل، بچے کی دعا، ص۶۵.
3 - مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة النساء مع الرجال، ص٧٢٥، حديث:١٨١٠.