گیا، یہ آپ کے لئے کتنے پُر آزمائش موقعے تھے لیکن آپ کمال ضبط کا مُظَاہَرہ کرتے ہوئے ایسے تمام واقعات پر صابِر رہیں اور ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی رضا میں راضی رہتے ہوئے اس کی شکر گزار بندی بنی رہیں۔ اللہ رَبُّ الْعِزّت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
(۳) ... علم وحکمت
علمی فضل وکمال اور حکمت ودانائی کے اعتبار سے بھی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے، اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ آپ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحرمہ ہیں اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کثرت کے ساتھ آپ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جس سے آپ کو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِکتسابِ عِلْم (یعنی عِلْم حاصِل کرنے) کے بہت مَوَاقِع میسر آئے اور آپ کی علمی بلندیوں میں روز بہ روز اِضَافہ ہوتا گیا حتی کہ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابیات طَیِّبات میں ہوتا ہے جو عِلْم وفضل اور حکمت ودانائی میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ علّامہ جَمَالُ الدِّین یُوسُف بن عَبْدُ الرَّحمٰن کلبی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡ آپ کے اس وَصْف کا ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”کَانَتْ مِنْ عُقَلَاءِ النِّسَاءِ وَفُضَلَائِھِنَّ یعنی حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دانش مند اور صاحب فضل وکمال عورتوں میں سے تھیں۔“ (1) آپ کے شوقِ عِلْمِ دین اور احکامِ شریعت سیکھنے کی لگن کااندازہ مزید اس بات سے لگائیے کہ ایک بار آپ نے سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ دریافت کیا جس پر اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں کچھ سرزنش کی تو جواب دیا: ”اِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ وَاِنَّا اِنْ نَسْأَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَمَّا
________________________________
1 - تهذيب الكمال، کتاب النساء، باب الكنى من كتاب النساء، ام سليم بنت ملحان، ٣٥ / ٣٦٥.