رہی ہے، ان کی سادگی اور قناعت پسندی کا عالَم کیا ہے کہ کسی زوجۂ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر سے رات کو کھانا برآمد نہ ہوا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تَوَکُّل کا عالَم یہ تھا کہ دوسرے دن کے لئے کھانا بچا کر نہ رکھتے تھے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: ”رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (اور ہم) نے کبھی بھی مسلسل تین۳ دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حالانکہ اگر ہم چاہتے تو کھا سکتے تھے مگر (کھانے کے بجائے) ایثار کر دیا کرتے تھے۔“ (1)
؎ مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۲) ... صبر وتحمل
مصیبت اور آزمائش کے موقعے پر صبر کرنا اور ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہنا وہ بہترین وَصْف ہے جسے خدا کے مقبول بندوں نے اختیار کیا اور کبھی کسی بڑی سے بڑی آزمائش سے گھبرا کر زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائے اور نہ کبھی دل میں ہی اسے جگہ دی۔ اس حوالے سے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کردار بھی مثالی ہے۔ آپ نے ہمیشہ ہر مُعَامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کو مُقَدَّم رکھا۔ غور کیجئے! جب آپ نے اسلام قبول کیا اور اس پر آپ کو شوہر کی شدید مُخَالَفَت کا سامنا کرنا پڑا اور جب آپ کے ننھے مدنی منّے حضرت ابوعمیر بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا انتقال ہو
________________________________
1 - الترغيب والترهيب، کتاب التوبة والزهد، الترغيب فى الزهد فى الدنيا الخ، ص١٠٢٢، الحديث:٨٦