رات کے عمل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بہت خوش ہے اور اس نے یہ آیت اتاری ہے: (1)
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ (۹) (پ٢٨، الحشر:٩)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ...پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس مدنی حکایت سے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کے شوہر نامدار حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایثار کا وَصْف بہت نمایاں طور پر مَعْلُوم ہوتا ہے کہ باوجود شدید حاجت کے کھانا خود تَنَاوُل نہ فرمایا بلکہ مہمان کے لئے ایثار کر دیا اور خود بھوکے رہ کر رات گزاری۔ اس حکایت میں اسلامی بہنوں کے لئے جہاں ایثار کا درس پایا جاتا ہے وہیں شوہر کی اِطَاعَت وفرمانبرداری اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کی مدد کرنے کا سبق بھی موجود ہے کہ اس قدر عسرت (تنگ دستی) کے موقعے پر جب حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مہمان کو گھر لے آئے تو مہمان کو دیکھ کر حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پیشانی پر شکن (یعنی بَل) نہیں پڑے نہ انہوں نے کسی قسم کی ناراضی کا اِظْہَار فرمایا بلکہ کشادہ روئی کے ساتھ مہمان کی مہمان نوازی اور خاطِر مدارات کی۔
قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی سادگی
اسی سے پیارے آقا،مکّی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سادگی اور قناعت پسندی کے بارے میں بھی معلوم ہوا، غورکیجئے! جس در سے دو جہاں کی نعمتیں تقسیم ہو رہی ہیں، قدرت کے خزانوں کی کنجیاں جن کے قبضہ واختیار میں ہیں، ساری دنیا جن کے لنگر سے پل
________________________________
1 - بخارى، كتاب مناقب الانصار، باب: )وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ الخ(، ص٩٥٧، الحديث:٣٧٩٨.