Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
28 - 58
 کمال موجود تھا جیسا کہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی اس روایت سے ظاہِر ہوتا ہے کہ ایک شخص سروَرِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوا اور عرض کیا: میں بھوکا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی کسی زوجۂ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی قسم!  جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سِوا کچھ نہیں پھر دوسری کے پاس بھیجا، انہوں نے بھی اسی طرح کہااور سب نے اسی طرح کہا۔ تب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  (صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)  سے فرمایا: اسے کون مہمان بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے؟  انصار میں سے ایک صحابی جنہیں ابوطلحہ کہا جا تا تھا انہوں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ!  میں حاضِر ہوں، چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے اور بچوں کی امّی سے دریافت کیا: تمہارے پاس کچھ ہے؟  انہوں نے جواب دیا: بچوں کی خوراک کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فرمایا: تم بچوں کو کسی چیز سے بہلا پھسلا کر سُلا دینا، جب ہمارا مہمان  (کھانے کے لئے)  آئے تو انہیں دِکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لئے بڑھائے  تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اور اسے بجھا دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا: یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھا لیا، انہوں نے بھوکے رہ کر رات گزاری، جب صبح ہوئی حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں مرد اور عورت سے راضی ہوا۔ (1)  ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: تمہارے 



________________________________
1 -   مشكاة المصابيح، كتاب المناقب، باب جامع المناقب، الفصل الثالث، ٢ / ٤٥٧، الحديث:٦٢٦١.