٭ یہ 28 ہجری کا واقعہ ہے۔ (1) آپ کا مزارِ اقدس قبرص کے مقام پر واقع ہے۔ (2)
٭ حضرت اُمِّ عَبْدُ الله بنتِ ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن ہیں۔ اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا۔ (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت اُمِّ سُلَیم کے اوصاف
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پاکیزہ زندگی اعلیٰ اوصاف وکمالات اور بےشمار اخلاقی خوبیوں کی جامع ہے۔ اسلام قبول کرنے سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک آپ نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کو حرزِ جاں (جان سے زیادہ عزیز) بنائے رکھا اور اپنے قول، فعل اور کردار سے لوگوں کو اِتباعِ سنّت کا درس دیا۔ ایک اسلامی بہن کو بطور ماں کیسا ہونا چاہئے...بطور بیوی اسے کیسا رَوَیَّہ اپنانا چاہئے...اسی طرح اور رشتوں کے اعتبار سے اسے کیسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے...اس کے لئے آپ کی سیرت سے بہت راہ نما مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں۔ جنہیں اپنے اوپر نافذ کر کے اسلامی بہن دین ودنیا میں فلاح وکامرانی سے ہم کنار ہو سکتی ہے۔ یہاں آپ کے چند ایسے ہی اوصاف وکمالات ذِکْر کیے جاتے ہیں، مُلَاحظہ کیجئے:
(۱) ...ایثار
ایثار سخاوت کی بہت اعلیٰ قسم ہے۔ اپنی خواہش و حاجت کو روک کر دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کو ایثار کہتے ہیں۔ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا میں یہ وَصْف بدرجۂ
________________________________
1 - عمدة القارى، كتاب الجهاد و السير، باب الدعاء بالجهاد الخ، ١٠ / ٨٨، تحت الحديث:٢٧٨٩، ملتقطًا.
2 - الاصابة، كتاب النساء، حرف الحاء، القسم الاول، ام حرام بنت ملحان، ٨ / ٤٢١.
3 - طبقات ابن سعد، و من نساء بنى عدى بن النجّار، ام عبد الله بنت ملحان، ٨ / ٣٢٠.