بھائی ہیں۔ (1) غزوۂ بدر اور اُحُد میں شرکت کی۔ (2) انصار کے 70 قُرَّاء صحابہ میں آپ بھی ہیں اور انہیں کے ساتھ سانحہ بئرِ معونہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
نوٹ: آپ کے ایک اور بھائی کا ذِکْر بھی ملتا ہے ان کا نام عبّاد ہے۔ (3) ان کے بارے میں تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔
٭ حضرت اُمِّ حَرام بنت ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سگی بہن ہیں۔ ( 4) حضرت سیِّدنا عُبَادَہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ کی اہلیہ ہیں۔ (5) ایک روز سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ان کے ہاں محوِ آرام تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے مسکرانے کا سبب پوچھا تو فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھے دکھائے گئے جو راہِ خدا میں جہاد کے لیے اس سمندر (یعنی بحیرۂ عرب) کے سینے پر ایسے سوار ہوں گے جیسے بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: حُضُور! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ان کے لیے دُعا فرمائی۔ (6) چنانچہ سمندری راستے سے اسلام کا سب سے پہلا لشکر امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں روم کی طرف روانہ ہوا اس میں حضرت اُمِّ حَرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی اپنے شوہر کے ساتھ شریک تھیں اور اسی دوران ایک سواری سے گِر کر آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
________________________________
1 - الاصابة، كتاب النساء، حرف الميم، القسم الاول ، مليكة الانصارية، ٨ / ٣٥٥.
2 - طبقات ابن سعد، طبقات البدريين من الانصار، حرام بن ملحان، ٣ / ٣٩٠.
3 - الاصابة، كتاب النساء، حرف الميم، القسم الاول، مليكة الانصارية، ٨ / ٣٥٥.
4 - الاصابة، كتاب النساء، حرف الميم، القسم الاول ، مليكة الانصارية، ٨ / ٣٥٥.
5 - الاصابة، كتاب النساء، فصل فيمن عرف بالكنية من النساء، حرف الحاء، ام حرام بنت ملحان، ٨ / ٤٢١.
6 - بخاری، كتاب الجهاد والسير، باب الدعا بالجهاد والشهادة الخ، ص٧٢٥، حديث:٢٧٨٩، ملخصًا