Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
25 - 58
 نے ان 70صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سمیت سانحہ بئرِ معونہ (1)   میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
٭ حضرت زید بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: یہ بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے بھائی ہیں۔ (    2)  غزوۂ اُحُد میں شرکت کی (3)  اور جنگِ جِسْر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ (    4)  جنگ جِسْر رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے آخر میں 13 ہجری  کو لڑی گئی۔ (     5)  یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  کا دورِ خلافت تھا۔ 
٭ حضرت حرام بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے



________________________________
1 -   یہ سانحہ ماہِ صفر 4ھ میں پیش آیا، واقعہ یہ تھا کہ ابو براء عامِر بن مالک ایک روز بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوا اور چند صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے ساتھ اپنی بستی میں لے جانے کی درخواست کی تاکہ قبیلے والوں کو دعوتِ اسلام دی جائے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے، اس کی درخواست پر سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے 70منتخب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو  جنہیں قُرّاء کہا جاتا تھا، اس کے ساتھ بھیج دیا۔وہاں پہنچ کر  بجائے اس کے کہ یہ دعوتِ اسلام  دینے میں ان کی مدد کرتا اور خود تبلیغی فرائض سر انجام دیتا، اس نے رَعل و ذَکْوان وغیرہ چند قبائل میں سے ایک لشکر تیار کیا اور دھوکے سے مُعَزَّز صحابیوں کو شہید کر ڈالا، حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو اس واقعے سے ایسا شدید رنج و صدمہ پہنچا کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ایک ماہ تک نمازِ فجر میں ان قبائل کے لیے دُعَائے ضَرَر فرماتے رہے۔ [سیرتِ مصطفےٰ ﷺ، ص۲۹۴-۲۹۶، ملخصًا] یہ واقعہ بئرِ معونہ کے مقام پر پیش آیا تھا اس لیے تاریخ میں اسے اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
2 -   الاصابة، كتاب النساء، حرف الميم، القسم الاول ، مليكة الانصارية،  ٨ / ٣٥٥.
3 -   اسد الغابة، باب الزاء والياء، زيد بن ملحان، ٢ / ٣٧٦.
4 -   الاصابة،حرف الزاء، القسم الاول،من اسمه زيد، زيد بن ملحان، ٢ / ٥٢٣.
5 -   فتوح البلدان، يوم قس الناطف وهو يوم الجسر، ص٣٥٢.