کے گھر تشریف لائے اور کھانا تَنَاوُل فرمانے کے بعد دو رکعت نماز پڑھائی چنانچہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ان کی نانی حضرت مُلَیْکَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے پر بُلایا جو آپ کے لئے تیار کیا تھا۔ آپ نے تَنَاوُل فرمایا پھر فرمایا کہ کھڑے ہوجاؤ تا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اُٹھا جو زیادہ عرصہ گزر جانے کے باعث کالی ہو گئی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہو گئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی اور بوڑھی امّاں ہمارے پیچھے تھیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر تشریف لے گئے۔ (1)
٭ حضرت سُلَیْم بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے بھائی ہیں۔ (2) غزوۂ بدر اور اُحُد میں شرکت کی۔ (3) انصار کے 70 قُرَّاء صحابہ میں سے ہیں۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں: ان 70 کا حال یہ تھا کہ جب رات ہوتی تو مدینہ طَیِّبہ میں اپنے مُعَلِّم کے پاس چلے جاتے اور ساری رات قرآن پاک سیکھنے میں گزار دیتے اور دن میں جو طاقت ور تھے وہ لکڑیاں جمع کرتے اور پانی بھر کر لاتے اور صاحبِ حیثیت بکریاں چرا کر گزر بسر کرتے اور صبح ہوتے ہی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے حجرۂ مُبَارَکہ کے قریب جمع ہو جاتے۔ (4) حضرت سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
________________________________
1 - بخارى، كتاب الصلاة، باب الصلاة على الحصير، ص١٦٩، حديث:٣٨٠.
2 - الاصابة، كتاب النساء، حرف الميم، القسم الاول ، مليكة الانصارية، ٨ / ٣٥٥.
3 - طبقات ابن سعد، طبقات البدريين من الانصار، سليم بن ملحان، ٣ / ٣٩١.
4 - حلية الاولياء، ذكر الصحابة من المهاجرين، عبد الله ذوالبجادين، ١ / ١٧٠.