٭ حضرت ابوعمیر بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: ان کا نام كبشہ ہے۔ (1) حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ان پر بہت شفقت فرماتے تھے اور ازراہِ لطف وعنایت بعض اوقات خوش طبعی بھی فرمایا کرتے تھے۔ کم عمری میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، جس کا پورا واقعہ شروع میں بیان ہو چکا ہے۔
٭ حضرت عَبْدُ اللہ بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ غزوۂ حنین کے بعد پیدا ہوئے۔ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے خود ان کی تحنیک (2) فرمائی۔ ایک قول کے مطابق انہوں نے 84ھ میں مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ میں انتقال فرمایا۔ (3) ان کی اولاد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے بڑے عُلَما اور صلحا (نیک وپرہیزگار افراد) پیدا فرمائے۔
چند اور شرف صحابیت پانے والے رشتہ دار
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے عزیز واقارب میں سے جن افراد کو سروَرِ عالم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا عظیم شَرَف نصیب ہوا ان میں سے چند کے نام اور مختصر تَعَارُف یہاں ذِکْر کیا جاتا ہے، ملاحظہ کیجئے:
٭ حضرت مُلَیْکَہ بنتِ مالِک انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والِدہ ہیں۔ ( 4) ايك بار پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی دعوت پر ان
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح، کتاب الاداب، باب المزاح، الفصل الاول، ۶ / ۴۹۴، بتغیر قلیل.
2 - شہد یا کوئی میٹھی چیز پہلے پہل (نوزائیدہ بچے کے) منہ میں دینا، اس کا طریقہ اسی رسالے کے صفحہ 14 پر ملاحظہ کیجئے۔
3 - الاصابة، القسم الثانى من حرف العين، عبدالله بن ابى طلحة الخ، ٥ / ١٢، ملخصًا.
4 - الاصابة، حرف الميم، القسم الاول، مليكه الانصارية، ٨ / ٣٥٥.