Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
22 - 58
حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم اس کے رسول ہیں۔
اس کے بعد حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ان کے ساتھ نِکاح ہو گیا۔ (1)  
حضرت ابوطلحہ کا مختصر تَعَارُف
حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام زید ہے لیکن کنیت سے مشہور ہیں، اعلیٰ درجے کے تیر انداز تھے۔ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ لشکر میں ابوطلحہ کی صرف آواز بڑی جماعت سے بہتر ہے۔ بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں کے ساتھ آپ آئے تھے پھر غزوۂ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامِل ہوئے۔ (2)  
اس نِکاح سے اولاد
اس نکاح سے بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اولاد کی نعمت سے بہرہ مند ہوئیں، حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  سے آپ کے دو۲ شہزادوں ابوعمیر اور عَبْدُ الله کا ذِکْر ملتا ہے، دونوں نے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا اور بڑے فضائل وکمالات کے حامِل ہوئے۔ 



________________________________
1 -   طبقات ابن سعد، و من نساء بنى عدى بن النجار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٤.
2 -   اجمال، حالات صحابہ وتابعین، باب طا، صحابۂ کرام، ص۴۳، ملتقطًا.والاكمال، الباب الاول    الخ، حرف الطاء، فصل فى الصحابة، ابو طلحة، ص٥٥، ملتقطًا