؎ بکھرے بال، آزردہ صورت ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت
بدر! مگر یہ شان ہے ان کی بات نہ ٹالے رَبُّ العزت
٭ حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: مشہور صحابی اور حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے خادمِ خاص ہیں، کنیت ابو حمزہ ہے، خلافتِ فاروقی میں بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہیں انتقال فرمایا، آپ بصرہ کے آخری صحابی ہیں، بوقتِ وفات عمر مُبَارَک ننانوے برس یا ایک سو تین برس تھی۔ آپ کی کثیر اولاد ہوئی، بہت مخلوق نے آپ سے روایات لیں۔ (1) کہا گیا ہے کہ آپ سے ایک ہزار دو سو چھیاسی (1286) احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک سو اڑسٹھ (168) حدیثیں مُتَّفَق عَلَیْہ (یعنی بخاری و مُسْلِم دونوں میں ) ہیں اور 83 احادیث صرف بخاری میں اور 71 صرف مُسْلِم میں ہیں۔ (2)
مالِک بن نَضَر کا قتل
مروی ہے کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے اسلام قبول کرنے کے وَقْت مالِک بن نَضَر ان کے پاس موجود نہیں تھا، جب وہ آیا (اور اسے ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر ملی تو) کہنے لگا: کیا تم بے دین ہوگئی ہو؟ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: میں بے دین نہیں ہوئی بلکہ اس شخص (یعنی سیِّدِ انس و جاں، رحمتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم) پر ایمان لے آئی ہوں۔ (3) اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنی اولاد کو بھی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے میں مصروف ہو گئیں چنانچہ رِوَایَت ہے کہ آپ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو
________________________________
1 - الاكمال، الباب الاول الخ، حرف الهمزة، فصل فى الصحابة، ص٥، بتغير قليل.
2 - اجمال، حالات صحابہ وتابعین، باب الالف، صحابۂ کرام، ص۱، بتغیر قلیل.
3 - طبقات ابن سعد، و من نساء بنى عدى بن النجّار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٢.