| حیرت انگیز حادثہ |
رَمَضان المبارک ۱۴۲۶ھ ہمارے چچا محمدر فیق عطاری سردارآباد (فیصل آباد) سے لوٹ رہے تھے۔ عشاء کی نماز کا وقت ہونے پر گاڑی روک کر نمازِ عشاء ادا کی پھر آگے روانہ ہوئے۔ گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ جارہی تھی کہ اچانک چچا محمد ر فیق عطاری نے بلند آواز سے کَلِمَہ طَیِّبہ
لَآاِلٰہ َ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ
(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) پڑھااور فرمایا سب کَلِمَہ پڑھو۔ سبھی نے کَلِمَہ طَیِّبہ کا ورد شروع کردیا ،ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گاڑی کو اچانک ایک زور دار جھٹکا لگااور گاڑی الٹ گئی اور لڑھکتی ہوئی کھائی میں جاگری۔ دیگر لوگ معمولی زخمی ہوئے مگر چچا جان کو شدید زخم آئے ، شدید تکلیف کے باوُجود اُن کی زبان پر بلند آواز سے کلِمَہ طَیِّبہ
لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ
(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )جاری تھا اور اس طرح کَلِمَہ طَیِّبہ کا ورد کرتے ہوئے ہمارے چچا جان محمدر فیق عطاری انتقال فرماگئے۔ان کی تدفین دوسرے روز رَمَضان المبارک کی27ویں شبعمل میں لائی گئی۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد