پنجاب(پاکستان)ضلع''لودھراں'' تحصیل کہروڑپکا کے مقیم اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میرے والد ادریس اَحمد عطاری جن کی عمر تقریباً 57سال تھی۔ دینی تعلیم کے علاوہ دُنیوی تعلیم سے بھی نابلد تھے۔ غالباً 1999 میں عاشقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافلہ ہمارے گاؤں پہنچا تو والد صاحب نے ان کی صحبت میں کافی وقت گزارا جس کی بَرَکت سے والد صاحب تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ باجماعت نماز پابندی سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ قراٰنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنا بھی شروع کردی اور جب تک زندہ رہے ہر سال پابندی سے حج کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے ہونے والے دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیلئے مدینۃ الاولیاء(ملتان شریف) بھی جاتے رہے۔
8مئی 2005 اچانک طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور بروز اتوار رات کم و بیش ساڑھے 8بجے ان کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔ قریب رہنے والے اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ