وہاں کے قانون کے مطابق لاش کو وُرَثاء کے حوالے نہیں کیا جاتا، جبکہ ہماری خواہش تھی کہ غسل کے ساتھ تدفین کے بھی تمام مراحل اسلامی بھائیوں کے ذریعے ہو نے چاہیں۔امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ بھی چونکہ ا س سال حج پر تھے، لہٰذا انہیں اطلاع دی گئی اوردعا کیلئے عرض کیا، ایک ولیِ کامل کی دعاؤں کی بَرَکت سے محمدماجد عطاری علیہ رحمۃ الباری کی میّت کافی پس و پیش کے بعد وہاں کی انتظامیہ نے ہمارے حوالے کردی ۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ اسلامی بھائیوں نے اپنے ہاتھوں سے سنّت کے مطابق غسل دیا۔ مکَّۃُ المُکرَّمہ کی بابَرَکت سرزمین پرشیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔نمازِ جنازہ کے بعد کسی نے امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ اگر سر پر سبز عمامہ شریف رکھ کر دفنایا جائے تو آپ دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے اپنا عمامہ شریف عطا فرمادیا۔ ایک اسلامی بھائی نے جونہی امیرِاَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا عمامہ شریف محمدماجد عطاری علیہ رحمۃ الباری کے سر پر رکھا تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں پھر کچھ دیر بعد خود ہی بند کرلیں۔یہ منظر امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے علاوہ اور بھی موجود کئی اسلامی بھائیوں نے دیکھا۔تدفین کیلئے قبرستان