Brailvi Books

حیرت انگیز حادثہ
20 - 32
بیرونِ ملک سے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سفر سے واپس لوٹے ہیں،ایک بھائی پاکستان انتظامی کابینہ کے رکن اور دوسرے بھائی پاکستان انتظامی کابینہ کے نگران کی حیثیت سے مَدَنی کاموں کی ترقی کیلئے کوشش میں مصروف ہیں۔ایک ولی کامل کے دامن سے وابستگی اور مَدَنی کام کے سلسلے میں بھائیوں پر شفقت و تعاون کی جو بَرَکتیں حاصل ہوئیں وہ پیشِ خدمت ہیں؛

    ۱۳ذوالحجۃ الحرام ۱۴۲۲ھ (08-03-2001) قافلے کے شرکاء مناسکِ حج سے فراغت پاکر صبح اشراق و چاشت کے نوافل ادا کرنے کے بعد طوافِ رخصت کی تیاری کررہے تھے ، محمدماجد عطاری علیہ رحمۃ الباری بھی وضو فرماکر کمرے میں آنے کیلئے چلے تو انہیں''الٹیاں'' شروع ہوگئیں۔ انہیں ایک جگہ لِٹانے کے بعد زم زم شریف پلایا تو وہ آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ان سے طبیعت سے متعلق معلوم کیا تو ''بہتری'' کا اشارہ فرمایا، ہم بھی پرسکون ہوگئے کہ طبیعت سنبھل چکی ہے۔ محمدماجد عطاری علیہ رحمۃ الباری کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ اچانک انہوں نے ہاتھ پاؤں سیدھے کئے اور چِت لیٹ گئے۔ہم نے دیکھا تو وہ ہوش میں نہیں تھے۔ ہم اُنہیں بے ہوش سمجھ کر تْقریباً9:00بجے ہسپتال لے کر پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ توکافی دیر پہلے انتقال فرماچکے ہیں۔