| حق و باطل کا فرق |
بزازیہ ،در،غرر، فتاوی خیریہ ، مجمع الانہر اور درمختار وغیرہ معتمد (۱)کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایاہے کہ جوشخص انکے عقائد کفرپہ آگاہ ہو کر انکے کفر و عذاب میں شک کرے تو خود کافر ہے مکہ شریف کے عالم جلیل حضرت مولانا سید اسمعیل علیہ الرحمۃ والرضوان اپنے فتوی میں تحریر فرماتے ہیں ۔
اما بعد فاقول ان ھوُلاء الفرق الواقعین فی السوال غلام احمد القادیانی ورشید احمد ومن تبعہ کخلیل الانبیتھی واشرفعلی وغیرھم لا شبھتم فی کفرھم بلا مجال بل لا مشبھتہ فیمن شک بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال
میں حمد وصلاۃ کے بعد کہتاہوں کہ یہ طائفے جن کاتذکرہ سوال میں واقع ہے غلام احمد قادیانی ، رشید احمد اور جواس کے پیروہوں جیسے خلیل احمد ،اشرفعلی وغیرہ ان کے کفرمیں کوئی شبہ نہیں نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفرمیں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں (حسام الحرمین ص ۱۲۰)
غیر منقسم ہندوستان کے علمائے اسلام کے فتاوی کامجموعہ اَلصَّوَارمُ الھندیۃ ص ۷ میں ہے ان لوگوں (یعنی قادیانیوں ، وہابیوں ، دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیا ہ کرنے ،ان کے ہاتھ کاذبح کیاہوا کھانے ،ان کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں انکا حکم بعینہ وہی ہے جو مرتد کا ہے یعنی یہ تمام باتیں سخت حرام گناہ ہیں۔
اﷲتعالے قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہےوَاِمَّایُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطنُ فَلَاتَقْعُدْ بَعْدَالذِکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّلِمیْن َ (2)
ترجمہ کنز الایمان: اور اگر تجھے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (۱)مستند ۔ قابل بھروسہ (۲)سورۃ الانعام آیت ۶۸پ ۷