اسمیں مولوی خلیل احمد صاحب مشرک ٹھہرینگے۔غرضیکہ مولوی مرتضی حسن صاحب نے براہین قاطعہ کی اس عبارت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے علم ذاتی کی نفی بتاکر براہین کے مصنف ومصدق (۱)کو مجنون و مشرک بنادیا یہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین کاوبال ہے کہ طرفداری کی جاتی ہے تب مجنون یا پاگل ضرورٹھہرتے ہیں خدا وند تعالے توبہ کی توفیق دے کہ کفر کی حمایت سے توبہ کریں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مرتبہ کو پہچانیں اور جانیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کی طرفداری کام نہ آئیگی ۔
مولوی قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند نے سارے انبیاء علیہم ا لسلام کو عمل میں گھٹایا اور اُمتیوں کو عمل میں انبیاء سے بڑھایاجیسا کہ حوالہ نمبر ۲۹ میں گزرا۔ اور مولوی خلیل احمد صاحب و مولوی رشید احمدصاحب نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے علم میں شیطان کو بڑھایاجس کا ثبوت حوالہ نمبر ۳۰ میں گزرا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ علمائے دیوبند نے متفق ہوکر انبیاء علیہم السلام خصوصاً سید الانبیاء جناب محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوعلم اور عمل دونوں فضیلتوں میں امتی اورشیطان سے گھٹا یا ہے ۔ مسلمانو! آنکھیں کھولواور انصاف کرو اور علماء دیوبند کی حقیقت پہچانو۔ اگر تم کو اپنے رسول اپنے نبی ، اﷲکے محبوب جناب محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سچی محبت ہے تو اس پر مطلع ہونے کے بعد ان کے گستاخوں سے بیزاری و بے تعلقی اختیار کرو۔ اپنے نبی کی ایسی کھلی ہوئی توہین کرنے والے سے تعلق رکھنا یا اس کو اچھا کہنے والوں اس کے ماننے والوں سے علاقہ(۲) باقی رکھنا امتی کا کام نہیں ہوسکتا ۔ تم ہی فیصلہ کروکہ اتنی کھلی توہین کے بعد بھی اگر ایمانی غیرت نہ آئے اور گستاخ کی طرفداری اور حمایت میں بیجاتا ویلیں کی جائیں تو کیانبی سے عداوت اور دشمنی نہیں ہے واقعی ہے ایسے گستاخ کی طرفداری نبی کی دشمنی اور نبی کامقابلہ ہے۔ والعیاذباﷲتعالی ۔ (۳)