ترجمہ :۔جس کسی نے کہاکہ فلاں کونبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ علم ہے اس نے حضو رکو عیب لگایااور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تنقیص(۲) کی وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو گالیاں دیتاہے او ر ظاہر بات ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سخت توہین ہے پھر اس کے کفر میں کیا شبہہ ہے؟
فائدہ
مولوی مرتضی حسن دربھنگی نے اس کفری عبارت کی تاویل میں یہ کہا کہ اس عبارت میں جوحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے وسعت علم شرک بتائی ہے او ر جس علم کی نفی کی ہے وہ علم ذاتی ہے اور ذاتی علم حضو ر کے لئے ثابت کرنا شرک ہے ۔
مگر افسوس کفرکی حمایت میں ان کی عقل ہی رُخصت ہوگئی۔ یہ بھی نہ سمجھے کہ علم ذاتی کی نفی کابہانہ تو اس وقت ہوسکتاتھا جب ان کے خصم (۳)حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیلئے علم ذاتی ثابت کرتے جب کہ مقابل علم عطائی ثابت کررہاہے توذاتی کی نفی کرنا یقینا مجنون کی بڑ(۴)ہوگی اورمولوی خلیل احمد صاحب پاگل ٹھہریں گے۔
نیز براہین قاطعہ کی یہ کفری عبارت پکارکر کہہ رہی ہے کہ جس قسم کاعلم شیطان کے لئے ثابت مانا ہے اسی قسم کے علم کی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نفی کی ہے لہذا اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے علم ذاتی کی نفی کی ہے تویقینا شیطان کیلئے علم ذاتی ماناجوکھلا ہوا شرک ہے