کہ اُس کی ہیبت و جَلال اور اس کا خوف دِل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔ (باحَیا نوجوان، ص ۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ بھی معلوم ہوا جہاں حَیا ہو وہاں خوفِ خدا ہوتا ہے اور جہاں خوفِ خدا ہو وہاں وہ گناہ کیسے رہ سکتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے اور بے پردگی بھی چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے لہٰذا اس کے خاتمے کے لیے بھی حَیا کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک حَیا اور پردے کا اہتمام رہا ہماری قوم ترقّی کی مَنازِل طے کرتی رہی اور جب حَیا کا خاتمہ ہوا تو بے پردگی آئی پھر بے پردگی سے بدکاری نے جَنَم لیا اور آخر مسلمان بدکاری کی نُحُوسَتوں کا شِکار ہو کر رہ گئے۔
ذیل میں چند واقعات پیشِ خدمت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حَیا اور پردے کی کس قدر اہمیت ہے۔
چہرے پرنِقاب
حضرت سیدتنا اُمِّ خَلَّاد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اپنے بیٹےکے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چہرے پر نِقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہوئیں، اس پر کسی نے حیرت سے