وہاں سے نِکلااور اپنے شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔وہ حسینہ چونکہ عابد کے کردار اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر گناہوں سے توبہ کرچکی تھی۔ چنانچہ اس نے بھی اپنے شہر کو خیر آباد کہا اور اس عابد کے مُتَعَلّق پوچھتی پوچھتی بالآخر اس کے گھر پہنچ گئی۔جب عابد کو بتایا گیا کہ کوئی عورت اس سے مِلنا چاہتی ہےاور اس نے باہَر آکرجُونہی اس حسینہ کو دیکھا تو ایک زور دار چیخ ماری اور اس کی روح عالمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی۔ حسینہ عابد کے اس طرح دنیا سے منہ موڑ جانے پر بَہُت زیادہ غمزدہ ہو گئی اور جب اس نے لوگوں سے پوچھا:’’کیا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے؟‘‘تو انہوں نے بتایا: ہاں! اس کا ایک بھائی ہے لیکن وہ بہت غریب ہے۔ یہ جان کر وہ حسینہ عابد کے بھائی کے پاس گئی اور اسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے شادی کی درخواست پیش کی۔ چنانچہ اس کی شادی ہوگئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں نیک وصالح اولاد عطا فرمائی اور انکے ہاں سات بیٹے ہوئے جو سب کے سب اپنے زمانے کے مشہور ولی بنے ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الاربعون بعد المائۃ، ص ۱۵۹)
حَیا اور گناہوں سے نفرت
معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا گناہوں سے نفرت کا باعث ہے۔ چنانچہ شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا‘‘ یہ ہے