دینے کو تیار ہوں، درمیان میں کوئی رُکاوٹ بھی نہیں تودور کیوں بھاگ رہے ہیں؟عابد بولا:’’مجھے اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر لگ رہا ہے اور اس کا خوف تیری طرف مائل نہیں ہونے دے رہا، مجھے اس بات سے حیا آ رہی ہے کہ جب میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں یہ گناہ لے کر حاضر ہوں گا تو کیا جواب دوں گا؟ اور یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ اگر مَیں نے یہ گناہ کرلیا تو کل بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سامنا کیسے کرسکوں گا؟اس لیے میرا دِل تجھ سے اُچاٹ ہو گیا ہے اور اب اس میں تیرے لیے کچھ جگہ ہے نہ تیرے حسن کے لیے، لہٰذا مجھے یہاں سے جانے دے۔‘‘عا بد کی یہ باتیں سن کر اپنے حُسن پر نازاں حسینہ بَہُت حَیران ہوئی اور کہنے لگی:’’اگر آپ سچے ہیں تو مَیں بھی بارگاہِ خداوندی میں توبہ کرتی ہوں اور عہد کرتی ہوں کہ آپ کے علاوہ کسی سے شادی نہ کروں گی۔‘‘
عابِد نے بڑی مشکل سے اپنی گھبراہٹ و پریشانی اور پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے اس وقت اجازت طلب کی کہ ابھی اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا بس وہ یہاں سے جانا چاہتا ہے تو اس حسینہ نے یہ کہتے ہوئے اسے جانے دیا کہ بہت جلد میں خود تمہارے پاس تم سے شادی کرنے کے لیے آؤں گی۔ چنانچہ عابد اجازت ملنے پر فوراً افسوس کرتا ہوا سر پر کپڑا ڈالے، منہ چھپائے، شَرمِنْدہ شَرمِنْدہ