Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
96 - 109
رہی ہے:’’قریب آ کر اپنی آرزو پوری کر لیجئے،مَیں حاضر ہوں۔‘‘ عابد اس قاتل حسینہ کے اس انداز پر آگے بڑھا اور تَخت پر جا بیٹھا۔پھر جب دونوں بدمستی وخرمستی کے عالَم میں حدود اللہ پامال کرنے لگے تو اچانک عابِد کے دِل و دماغ میں ایک بجلی سی کوندی جس نے اسے خوابِ غفلت سے جگا دیا اور اس کی ساری بَدمستی و خَرمستی جَل کر خَاکِسْتَر ہو گئی، اسے بروزِ قِیامَت بارگاہِ خداوندی میں حاضِرہونا کیایاد آیا کہ اس کی حالَت ہی بدل گئی، خوفِ خدا سے جسم پر لرزہ اور ایک عجب سی کپکپی طاری ہوگئی، نفس و شیطان کی اطاعت میں یادِ خدا سے غفلت برتنے کے احساس نے اس کی شہوت کی آگ کو برف کی طرح ٹھنڈا کر دیا اور وہ فعلِ بد کا ارادہ کرنے پر شرمندہ و شرمسار ہو کر فوراً نہ صرف اس حسینہ سے دور ہو گیا بلکہ نگاہیں جھکائے کچھ یوں گویا ہوا:’’مجھے جانے دو اور یہ سو دینار بھی تم اپنے پاس ہی رکھو۔‘‘
حسینہ نے عابد کی اُڑی اُڑی رنگت دیکھ کر بڑی حیرانی سے پوچھا:جناب! کیا ہوا؟ابھی تو آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے محض میرے قُرب کے حُصول کے لیے کتنے جَتَن کیے ہیں اور کتنی مشقتیں برداشت کی ہیں اور اب جبکہ طویل انتظار کے بعد مَقصود کے حُصول کا وقت آیا ہے، منزل سامنے ہے، میں بھی بھرپور ساتھ