معلوم ہوا کہ جو اپنے اہل خانہ کو بے حَیائی کے کاموں سے نہیں روکتا وہ دَیُّوث ہے، ہاں! اگر مَرد اپنی حیثيت کے مُطابِق مَنْع کرتا ہے اور وہ نہ مانیں تو اِس صُورت ميں اس پر نہ کوئی الزام اور نہ وہ دَيُّوث۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ گفتار کے غازی نہ بنیں، محض مُعاشرے میں ہونے والی برائیوں پر تبصرے نہ کریں کہ تبصروں سے تبدیلی نہیں آتی بلکہ عملی اقدام کریں کہ مُعاشَرہ (Society) فرد سے بنتا ہے نہ کہ فرد مُعاشَرے سے۔ چُنانْچہ ایک ایک فرد پر انفرادی کوشِش کرتے ہوئے اسے مَدَنی ذِہْن دیں اور ’’بے حَیائی کے خِلاف جنگ جاری رہے گی‘‘ کو اپنا نعرہ بناتے ہوئے اس کے خِلاف ڈَٹ جائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ دِن دور نہیں جب ہمارا مُعاشَرہ ایک پاکیزہ مُعاشَرہ بن جائے گا۔
(۲)بے پردگی کا خاتمہ
مُعاشَرے سے بے پردگی کا خاتمہ کرنا بدکاری کاراستہ روکنے کے لئے نہایت اہم ہے۔کیونکہ اگر کوئی شخص اپنی فِطری حَیا کی بِنا پربُرائی سے بچنے کی کوشِش کربھی رہا ہو مگر عورت کا حُسن و جَمال اور اس پر اس کا بَن سَنْور کر بے پردہ مردوں کو دعوتِ نظارہ دینا بسا اوقات عابدوں اور زاہدوں کے قدم بھی ڈگمگانے کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہ،