دَیُّوث کسے کہتے ہیں
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:بعض شارِحین نے فرمایا کہ یہاں خَبَث سے مُراد زِنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حيائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حيائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قدرت نہ روکے وہ بے حیا دیّوث ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵/۳۳۷)
دَیُّوث پر جنّت حَرام ہے
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس نے کسی شادی شُدہ عورت سے بدکاری کی تو اس بدکار مرد اور عورت کو قَبْر میں اس اُمّت کا نِصْف عَذاب ہو گا، پھر جب قِیامَت کا دِن ہو گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس عورت کے شوہر کو بدکار کی نیکیاں لینے کا حکم دے گا، یہ تب ہو گا جبکہ اسے اس (بدکاری) کا عِلْم نہ تھا اور اگر وہ جاننے کے باوجود خاموش رہا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جَنَّت حَرام کر دے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت کے دروازے پر لکھ دیا ہے کہ تو دیوث پر حَرام ہے۔‘‘ (کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ العاشرۃ:الزنی…الخ،ص۵۹)