شرمیلے اسلامی بھائی پر ہنستے ہوئے کہتے ہیں یہ تو لڑکی کی طرح شرماتا ہے! یاد رکھئے حَیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ چُنانچِہ،
حضرتِ سیِّدُنا عِمران بن حُصَیْن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیُوبصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:حَیا صِرْف خَیر (یعنی بھلائی) ہی لاتی ہے۔
(مُسلِم،کتاب الایمان،باب بیان عدد شعب الایمان و افضلہا وادنا ھا ۔۔۔۔الخ،ص۴۰، حدیث:۳۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے حَیا کی اَہَمِّیَّت اور فضیلت مُلاحَظہ فرمائی،اب یہ ہم پر ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحَول کو حَیا دار بنانے کی کوشش کریں اور اس کا آغاز اپنے گھر سے کریں کہ جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کريں وہ دَیُّوث ہيں، رَحمتِ عالميان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ثَلَاثَۃٌقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیْھِمُ الْجَنَّۃَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْ یُقِرُّ فِیْ اَھْلِہِ الْخَبَثَ۔ یعنی تين شخص ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنّت حَرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے،دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ دیُّوث( یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے۔
(مُسنَد اَحمد،۲/۳۵۱، حدیث:۵۳۷۲)