Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
91 - 109
۔۔الخ،ص۳۹، حدیث: ۳۵)ایک اور حدیث شریف میں ہے:حَیا ایمان سے ہے۔ (مُسْنَدُ ابی یعلیٰ، الحدیث: ۷۴۶۳،ج۶، ص۲۹۱) یعنی جس طرح ایمان، مومِن کو کُفر کے اِرتکِاب سے روکتا ہے اِسی طرح حَیا، باحَیا کو نافرمانیوں سے بچاتی ہے۔ یوں مَجازاً اسے ایمان سے فرمایا گیا۔ جس کی مزید وضَاحت و تائید حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی اِس روایت سے ہوتی ہے:بے شک حَیا اور ایمان دونوں آپس میں مِلے ہوئے ہیں تو جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
(المستدرک للحاکم، کتاب الایمان،۱/۱۷۶، حدیث:۶۶)
کثرتِ حَیا سے منع مت کرو
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک انصار ی کو ملاحَظہ فرمایاکہ وہ اپنے بھائی کوشَرم وحیا کے مُتَعَلِّق نصیحت کر رہے تھے (یعنی کثرتِ حیا سے مَنْع کر رہے تھے) تو فرمایا: اسے چھوڑ دو، بے شک حیا ایمان سے ہے۔
(ابو داود،کتاب الادب،باب الحیاء،۴/۳۳۱، حديث:۴۷۹۵)
حَیا خیر ہی خیر ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حَیا جتنی زیادہ ہو اُتنی ہی اچّھی ہے۔ مگر افسوس کہ اب بعض لوگ حَیا کا مَذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں اور شرمیلے