Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
90 - 109
 اسلامی نے مجھے ایک پاکیزہ زندگی عطا کر دی۔ کل تک میں بے پردہ اور فیشن پرست تھی مگر دعوتِ اسلامی نے مجھے حَیا کی چادر عطا کردی اور مجھے سنّتوں کا عادی بنا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر میں علاقائی مُشاورت کی ذمہ دار کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کیلئے کوشاں ہوں۔
حَیا کی اہمیت
اسلام میں حَیا کو بَہُت اَہَمِّیَّت (اَھَمْ۔ مِیْ۔ یَتْ) دی گئی ہے۔ چُنانچِہ حدیث شریف میں ہے: بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے۔ (ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب الحیاء،۴ /۴۶۰،حدیث:۴۱۸۱) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جو دیگر خَصْلَتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خَصْلَت حَیا ہے۔ اس لئے کہ حَیا ایک ایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مَضْبُوطی کا باعِث اور اسکی عَلامات میں سے ہے۔ چُنانچِہ، 
ایمان کی عَلامت
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایمان کے ستّرسے زائد شُعْبے (عَلامات) ہیں اور حَیا ایمان کا ایک شُعبہ ہے۔ (مُسلِم،کتاب الایمان،باب بیان عدد شعب الایمان و افضلہا وادنا ھا