Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
89 - 109
مُتَعَلّقین اور اُمّتِ مصطفےٰ کے لئے مَغْفِرَت کی دُعاؤں کی معلومات نیز ایسی نازُک حالت میں بھی قوانینِ شریعت کی مکمل پاسداری کے واقعات میرے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کرنے کے لئے کافی تھے، میرا ایمان تازہ ہو گیا۔ میں اَمِیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مُعتقد اور آپ کی بنائی ہوئی پیاری پیاری تحریک دعوتِ اسلامی سے بیحد متأثر ہوئی۔ اس کے بعد میں نے اسلامی بہنوں کے ساتھ ہَفْتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شِرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔ ایک مرتبہ اِجتِماع میں سنّتوں بھرے بیان کے بعد اعلان ہوا کہ اب اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بیعت کروائی جائے گی۔ وکیلِ عطارؔ جو کہ کسی دوسرے مَقام پر تھے انہوں نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بیعت سے پہلے توبہ کروائی جس میں یہ الفاظ بھی شامل تھے ’’ماں باپ کی نافرمانی، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، گالی گلوچ، فلمیں ڈرامے، گانے باجے، بے پردگی وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچتی رہوں گی‘‘ یہ الفاظ ادا کرتے وقت میرے دل کی دنیا زیر و زَبر ہوگئی۔ گھر واپس آنے کے بعد بھی نَجانے کتنی دیر تک میرے کانوں میں انہی الفاظ کی گونج برقرار رہی۔ میں دِل ہی دل میں خود کو سابقہ گناہوں پر مَلامَت کرتی رہی۔ جب دِل میں اِحساسِ نَدامَت پیدا ہوا تو آنکھوں سے برستے آنسوؤں سے اس کا اظہار ہوگیا۔ ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں اُٹھا کر اپنے گناہوں کی مُعافی مانگی اور والدین سے بھی اپنی کوتاہیوں پر مَعْذِرَت کی۔ دعوتِ