نَشْوونُما ہوگی اور ہمارے افعال سے حَیا جھلکے گی اور اگر ہمارا اٹھنا بیٹھنا بے حَیائی کے دِلدادہ، گانوں باجوں،فِلَموں،ڈِراموں کے شائِق لوگوں میں ہوگا تو’’صحبتِ طالح تُرا طالح کُنَنْد‘‘ (برے کی صحبت تجھے برا بنادےگی)کے مِصْداق کہیں ہم بھی انہیں کے رنگ میں نہ رنگ جائیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں ہمارے چہار جانب بے حَیائی کی بادِسَمُوم (بہت گرم ہوا)چل رہی ہے ایسا پاکیزہ ماحول لائیں کہاں سے جو ہماری اور ہمارے اہل خانہ کی تربیت کرے؟تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس سوال کا جواب قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے جس نے ایک دو نہیں لاکھوں لاکھ لوگوں کی کایا پلٹ دی اور انہیں بے حَیائی اور فَحاشی کی پُرخار وادی سے نِکال کر شرم وحَیا کی پاکیزہ راہ پر چلا دیا۔ وہ عورتیں جو کل تک بازاروں کی زینت بنی ہوئی تھیں اس ماحَول نے انہیں چادر و چاردیواری کا سَبَق دے کرگھروں میں رہنا سکھا دیا،آئیے! اس مَدَنی مَاحَول کی ایک مَدَنی بَہَار مُلاحَظہ فرمایئے:
ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب ہے: دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحَول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں ایک فیشن ایبل (Fashionable) لڑکی تھی۔ نِت نئے فیشن اپنانا، کالج میں بے پردہ جانا، نیز کوچنگ سینٹر میں لڑکوں کے ساتھ بے تکلّفی سے پیش آنا میرے نزدیک مَعْیوب نہ تھا۔ مگر جب سے