Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
86 - 109
حَیا کسے کہتے ہیں؟
حَیا سے مُراد ’’وہ وَصْف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔‘‘لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رُک جانا جو ان کے نزدیک اچّھانہ ہو ’’مخلوق سے حَيا‘‘کہلاتا ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ عام لوگوں سے حَیا کرنا دنیاوی برائیوں سے بچائے گا اور عُلَما وَ صُلَحا سے حَیا کرنا دینی بُرائیوں سے باز رکھے گا۔ مگر حَیا کے اچھّا ہونے کے لئے ضَروری ہے کہ مخلوق سے شرمانے میں خالق عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اور نہ کسی کے حُقُوق کی ادائیگی میں وہ حَیا رُکاوٹ بن رہی ہو۔ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا‘‘ یہ ہے کہ اُس کی ہیبت و جَلال اور اس کا خوف دل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔	(باحَیا نوجوان، ص ۵)
حَیا کا ماحول سے تعلُّق
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حَیا کا مُعاشرے کے سنورنے اور بگڑنے میں بنیادی کردار ہے اس لئے کہ حَیا ہی تو تھی جو برائیوں اور گناہوں سے روکتی تھی جب حَیا ہی نہ رہی تو اب بُرائی سے کون روکے؟اور حَیا کا تَعلّق مَاحَول سے ہے اگر ہمارے اردگر د کا ماحَول باحَیا افراد پر مشتمل ہے تو ہمارے اندر وَصْفِ حَیا کی نَشْوونُما