Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
84 - 109
کے مُطابق ستر ہزار ناجائز بچے چھوڑے۔
یورپ کے بعض ملکوں میں ناجائز بچوں کی شرحِ پیدائش 60 فیصد سے بھی تَجاوُز کرگئی ہے اور کنواری ماؤں کی تعداد میں ہَوش رُبا اِضافہ ہورہا ہے، طلاقوں کی کثرت، گھروں میں سُکون کی دولت نہیں، میاں بیوی میں اِعتِماد مَفْقُود ہوچکا ہے، زوجہ اور خاوند میں سچی مَحبَّت کا فُقْدَان ہے، برداشت اور اِیثار کا جَذبہ خَتْم ہوچکا ہے، کوئی بات کسی کی مرضی کے خِلاف ہوگئی تو طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ 
اٹھا کر پھینک دے اللہ کے بندے
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
لیکن عَجَب تماشہ ہے کہ مَغْرِب کی یہ بربادی دیکھنے کے باوُجُود ہم ان کی پیروی میں فحاشی وعریانی کو فروغ دیئے چلے جارہے ہیں،آخِر ہمیں کیا ہوگیا ہے؟آہ!ایسا لگتا ہے کوئی سمجھانے والا، کوئی روکنے ٹوکنے والا ہے ہی نہیں اور اگر کوئی سمجھائے بھی تو یہاں سمجھنے کو کون تیار ہے؟؟؟بس بے حَیائی کے سیلاب میں بہتے چلے جارہے ہیں جبکہ اسلام میں حَیا کی بڑی اہمیت ہے،ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلْق حَیا ہے۔ (ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب الحیاء، ۴ /۴۶۰، حدیث:۴۱۸۱)