ابنِ آدم !اگرتُو اوّل صَدمے کے وَقت صَبْر کرے اور ثواب کا طالِب ہو تو میں تیرے لئے جنَّت کے سِوا کسی ثواب پر راضی نہیں۔
(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصبر علی المصیبۃ،۲ /۲۶۶، حدیث:۱۵۹۷)
مُعاشرہ بے حَیائی کی لپیٹ میں
اصل میں ہمارا معاشرہ بے حیائی (Shamelessness)کی لپیٹ میں آچکا ہے، فَحاشی و عُریانی (Nudity & Obscenity)کی تُند و تیز ہوائیں شَرم و حَیا کی چادَر کو تار تار کر رہی ہیں،دورِ جدید کی چَکا چَوند نے غیرت (Modesty) کا جَنازہ نِکال دیا ہے،اس نام نہاد ترقّی نے بے حیائی کو فیشن کا نام دے کر میڈیا کے ذریعے گھر گھر میں پَہُنْچا دیا ہے،ذرا غور فرمائیے! اگر آپ کے گھر کے باہَری دروازے پرکوئی جوان لڑکی اور لڑکا آپس میں ناشائستہ حَرَکتیں کر رہے ہوں تو شاید آپ شور مچا دیں کہ یہ کیا بے حيائی کر رہے ہو بلکہ انہیں مارنے کو دَوڑ پڑیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں آپ کا غصّہ حیا کی وجہ سے ہے۔ لیکن جب آپ نے گھر میں ٹی وی آن کیا جس میں ایک رقّاص اور رقّاصہ (Dancers) ناچ رہے ہیں، ایک دوسرے کو اشارے کر رہے ہیں، چُھو رہے ہیں، تب آپ کی حیا کہاں سو جاتی ہے؟ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے لئے سوچئے! کیا یہ بے حيائی (Shamelessness)کا مَنظر