غصّے میں آکر لڑ پڑناسخت نقصان دِہ ہے کہ اس طرح مسئلہ ( مَسْ۔ءَ۔لہ)حَل ہونے کے بجائے مزیداُلَجھ سکتا ہے۔ایسے مَوقَع پر یہ یاد کر کے اپنے دِل کو تسلّی دینی چاہیے کہ جب تک تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عام اِعلانِ نَبُوَّت نہیں فرمایا تھا اُس وَقت تک کُفّارِ بد اَنْجام آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اِحتِرام کی نَظَر سےدیکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو امین اور صادِق کے لَقَب سے یاد کرتے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جُوں ہی علَی الْاِعلان اسلام کا ڈنکا بجانا شروع کیا وُہی کُفّارِ بَداَطوار طرح طرح سے ستانے، مَذاق اُڑانے اور گالیاں سنانے لگے، صِرف یہی نہیں بلکہ جان کے در پے ہو گئے، مگر قربان جائیے! سرکارِ نامدار، اُمّت کے غم خوار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کہ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بِالکل ہمّت نہ ہاری،ہمیشہ صَبْر ہی سے کام لیا۔ اب یہ اسلامی بھائی اور بہن صَبْر کرتے ہوئے غور کرے کہ جب تک میری جانب سے پردے کے مُعاملے میں بے پرواہی تھی میرا کوئی مَذاق نہیں اُڑاتا تھا، جُوں ہی میں نے شَرعی پردے کا اِہتِمام کیا، ستایا جانا شروع ہوگیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ مجھ سے ظُلْم پرصَبْر کرنے کی سنّت ادا ہو رہی ہے ۔مَدَنی التجا ہے کہ کیسا ہی صَدمہ پہنچے صَبْر کا دامَن ہاتھ سے مت چھوڑئیے، نیز بِلا اجازتِ شَرعی ہرگز زَبان سے کچھ مت بولئے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:اے ابنِ