عابد کی اِس درد ناک رِحلت پر سبھی تأسُّف وحسرت کرنے لگے۔جب ان کیلئے قَبر کھودی گئی تو اُس سے مُشک وعَنبر کی لپٹيں آنے لگیں۔جوں ہی دونوں کے جنازے لائے گئے تو آسمان سے صدا آنے لگی:
اِصْبِرُوا حتّٰی تُصَلِّیَ عَلَیْھِمَا الْملٰۤـئِکَۃُ
یعنی صبر کرو یہاں تک کہ ان پر فرشتے نمازِجنازہ پڑھ لیں۔
تدفین کے بعد اللہ ربُّ العٰلمین نے خوش نصیب عابِدکی قَبْرپر چنبیلی کو اُگایا۔ لوگوں نے مَزارِ پُر انوار پر ایک کَتْبہ آویزاں پایا جس میں کچھ اس طرح مَضْمُون تھا:
﷽ط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اپنے بندے اور ولی کی طرف۔ میں نے اپنے فِرِشتوں کو جَمع فرمایا،جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) نے خُطبہ سنایا اور میں نے پچاس ہزار دُلہنوں کے ساتھ جنَّتُ الفردوس میں اِس(اپنے ولی) کا نِکاح فرمایا۔ میں اپنے فرماں برداروں اور مُقَرَّبوں کو ایسے ہی اِنعاموں سے نوازتا ہوں۔ (بحر الدموع، الفصل السابع والعشرون،ص۱۶۹، ملخصاً)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم