اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فوراً اُس کی بَرَہْنہ (بَ،رَہ۔ نَہ) لاش پر چادر اُڑھا دی۔
صُبْحِ دَم ابلیس نے چِلّا کر اعلان کیا:اِس عابِد نے فُلانہ بنتِ فُلاں کے ساتھ رات کوزیادَتی کر کے اُس کو قتل کر دیا ہے۔یہ خبرِ وَحشت اثر سُن کر بادشاہ آگ بگولہ ہو کر سپاہیوں کے ساتھ عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی خانقاہ پرآ پہنچا ۔ جب وہاں سے لڑکی کی بَرَہْنہ لاش برآمد ہو گئی تو عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے گلے میں زنجیر ڈال کر گھسیٹ کر باہَر نکالا گیا اور پھر سپاہیوں نے خانقاہ کی اِینٹ سے اِینٹ بجا دی۔ وہ عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ صبرو شِکَیبائی(شِ۔کے۔بائی، یعنی صبروضبط) کا دامَن تھامے رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے اپنا جلا ہوا ہاتھ بھی کپڑے میں چُھپائے رکھا اور کسی پر ظاہِر نہ ہونے دیا!اُس وَقت دُسْتُور یہ تھا کہ زانی کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا۔ چُنانچِہ بادشاہ کے حکم سے عابِدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے سر پر آرہ رکھ کر اُن کے بدن کے دو پَر کالے (دو ٹکڑے) کر دیئے گئے۔ عابِد کی وفات ہو جانے کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُس عورت کو زِندہ کیا اور اُس نے از ابتِدا تا انتِہا ساری رُوداد سنائی۔جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے ہاتھ سے کپڑا ہٹایا گیا تو لڑکی کے بیان کے مطابِق واقعی وہ جلا ہوا تھا اِس کے بعد لڑکی حسبِ سابِق پھر مُردہ ہو گئی۔ حیرت انگیز حقیقت سُن کر لوگوں کے سر عقیدت سے جھک گئے اور خوش نصیب