Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
76 - 109
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے مُضْطَرِب (مُضْ ۔طَ۔رِب) ہو کراپنے نَفْس سے پوچھا:’’اے نَفْس! تُو کیا چاہتا ہے؟‘‘ اُس نے کہا:’’خداکی قسم ! میں تو اِس نادِر موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہوں ۔‘‘ فرمایا:’’تیرا ناس ہو! کیا تُو میری عمر بھر کی عِبادَت ضائِع کرنے کا اُمّید وار ہے؟ کیا تُوطالبِ عذابِ نار ہے؟ کیا تُودوزخ کے گندھک کے لباس کا خواستگار ہے؟ کیا تُوجہنَّم کے سانپوں اور بچھوؤں کا طلبگار ہے؟ یاد رکھ! زانی کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنَّم کے گہرے غار میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ مگر اُس بد نِیَّت لڑکی کے ساتھ ساتھ نَفْس نے بھی اپنی تحریک برابر جاری رکھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنے نَفس سے فرمایا:’’چل پہلے تَجْرِبہ (تَج۔رِ۔بَہ)کر لے کہ آیا تُو دُنیا کی مَعمولی آگ بھی برداشت کر سکتا ہے یا نہیں!‘‘یہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے جَلتے ہوئے چَراغ پر ہاتھ رکھ دیا! مگروہ نہ جلا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے جَلال میں آکر پکارا:’’اے آگ ! تجھے کیا ہوگیا ہے تُو کیوں نہیں جلاتی؟‘‘ اِس پر آگ نے پہلے انگوٹھا جلایا، پھر اُنگلیوں کو پِگھلایا حتّٰی کہ ہاتھ کا سارا پنجہ کھا گئی!یہ دَرْد اَنگیز مَنْظر دیکھ کر اُس لڑکی پر ایک دم خوف طاری ہو گیا، اُس کے مُنہ سے ایک زور دار چیخ بُلند ہو کر فَضا کی پَہْنَائیوں میں گم ہو گئی، وہ دھڑام سے گری اور اُس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔ آپ رَحْمَۃُ