Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
75 - 109
خوش نصیب عابد کی ثابِت قدمی
حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الاَ حبار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابِد تھے جو کہ صِدّیق (یعنی اوّل دَرَجے کے ولی) کے منَصب پر فائز تھے۔ شان یہ تھی کہ خانقاہ پر بادشاہ حاضِر ہو کر حاجت دریافت کرتا مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ مَنع فرما دیتے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے عِبادَت خانے پر انگور کی بیل لگی ہوئی تھی جو ہر روز ایک انوکھا انگور اُگاتی تھی کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اُس کی طرف اپنا مبارَک ہاتھ آگے بڑھاتے تو اُس میں سے پانی اُبل پڑتا جسے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نَوش فرمالیتے۔
ایک دن مغرِب کے وَقت ایک جوان لڑکی نے دروازے پردستک دے کر کہا:’’اندھیرا ہو گیا ہے، میرا گھر کافی دُور ہے، مجھے رات گزارنے کیلئے اجازت دے دیجئے۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ترس کھا کر اسے اپنی خانقاہ میں پناہ دیدی۔ رات جب گہری ہوئی تو وہ ایک دَم گلے پڑ گئی کہ میرے ساتھ منہ کالا کرو!!! یہاں تک کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس نے اپنے کپڑے اُتار دیئے! آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فوراً آنکھیں بند کر لیں اور اُس کو کپڑے پہننے کا حکم دیا مگر وہ نہ مانی بلکہ برابر مُطالَبہ کرتی رہی۔