کرنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی عطا فرمایا اور اس پر عمل کرنے کو فرمانبرداری کا تاج پہنا کر ذریعۂ نَجات قرار دیا۔ جیسا کہ ہم جان چکے ہیں کہ بعض صُورتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عطاکردہ اس جائز و حلال طریقۂ کار یعنی نِکاح پر عمل کرنا فرض، واجِب یا سنّت مؤکدہ ہے اور بعض صورتوں میں مکروہ و حرام ہے۔ مگر جب ہم اپنے مُعاشرے کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ بَہُت سے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں پر نِکاح کرنا فرض یا واجب ہو چکا ہے مگر اس فرض کی ادائیگی میں وہ بسااوقات جان بوجھ کر اوربعض اوقات مجبوراً کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کوتاہی ایک کثیر تعداد کو تباہی و بربادی کے دَہانے پر لے جانے کا سَبَب بھی بن رہی ہے۔کیونکہ مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں فَحاشی و عُریانی ہر طرف اپنے پَنْجے گاڑے نظر آتی ہے کسی کا غلبۂ شہوت کے وَقْت خود پر قابو پا لینا یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا انعام اور اس کا فضل ہی ہے۔ اس لیے کہ جومسلمان امتحان سے جی نہیں چُراتا بلکہ نفسانی شَہوت کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے، کیسی ہی صبر آزماگھڑی آئے اُس سے گھبراتا نہیں بلکہ رضائے ربُّ العزّت پانے کیلئے بڑی سے بڑی مصیبت کو گلے سے لگا لیتا ہےاور شیطان و نَفس سے ہر حال میں ٹکرا جاتا ہے وہ بارگاہِ خداوندی سے دَرَجاتِ عالِیہ پاکرشان و شوکت کے ساتھ جنَّتُ الْفِردوس میں جاتا ہے۔چنانچہ،