روزے رکھے، کیونکہ روزوں سے شہوت ٹوٹتی ہے۔‘‘
(بخاری،کتاب النکاح،باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم،۳/۴۲۲، حدیث:۵۰۶۶)
نِکاح کا شرعی حکم
یاد رہے کہ نِکاح ہمیشہ سنت نہیں،بلکہ کبھی فرض،کبھی واجب، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
فرض
اگر (حقوقِ زوجہ پر قادر ہو اور)یہ یقین ہو کہ نِکاح نہ کرنے کی صُورت میں زِنا میں مبتلا ہوجائے گا تو نِکاح کرنا فَرْض ہے۔ایسی صُورتِ حال میں نِکاح نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔
واجب
اگر مہرونفقہ دینے (اور ازدواجی حقوق ادا کرنے)پر قدرت ہو اور غَلبۂ شہوت کے سبب زنایابدنگاہی یا مُشْت زَنی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صُورت میں نِکاح واجِب ہے، اگر نہیں کرے گا توگناہ گار ہوگا۔
سنتِ مؤکدہ
اگر مہر، نان و نفقہ دینے اور ازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہو اور