Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
71 - 109
مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ باندیوں پر،جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں۔ 
(پ۱۸، المؤمنون:۶)

فی زمانہ کنیزِشرعی میسر نہ ہونے کی بِناء پرصرف زوجہ سے ہی مَطلوبہ مقصد حاصل کرنا ممکن ہے۔اسی طریقے کی جانب متوجہ کرنے کے لئے رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کئی مقامات پر ترغیبی کلام ارشاد فرمایا۔چنانچہ، 
حضرتِ سیدتنا عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’نِکاح میری سنّت سے ہے پس جو شخص میری سنّت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔لہٰذا نِکاح کرو،کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بِناء پر دیگر اُمّتوں پر فخر کروں گا۔جوقدرت رکھتا ہووہ نِکاح کرے اور جو قدرت نہ پائے تو روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے۔‘‘ 
( ابن ماجہ،کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح،۲/۴۰۶، حدیث:۱۸۴۶) 
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے فرمایا:’’اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص نِکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو،وہ نِکاح کرے کیونکہ یہ نگاہوں کو زیادہ جھکانے اور شرمگاہ کی زیادہ حِفاظَت کرنے والا ہے اور جو نِکاح کی اِسْتِطاعَت نہیں رکھتا تو