Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
68 - 109
مطلب یہ ہے کہ انسان انہیں رب تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں سے بچائے مثلاً زبان سے وہی کلام کرے جو ضروری ہو اور بے کار باتوں سے بچے، اسی طرح شرم گاہ کو حلال جگہ استعمال کرے اور اسے حرام میں مبتلا ہونے سے بچائے ۔سیِّدُنا ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے دنیا کی سب سے بڑی آزمائش اس کی زبان اور شرم گاہ ہے۔لہٰذا! جو اِن دونوں کے شر سے بچنے میں کامیاب ہوگیا وہ بہت بڑے شر سے بچ گیا ۔ (فتح الباری، کتاب الرقاق، ۱۱/۲۶۳ ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شرم گاہ اور زبان کی حِفاظَت کے مُتَعَلّق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 152 صَفحات پر مشتمل کتاب جنت کی دوچابیاں کا مطالعہ فرمائیے:ا س کتاب میں پہلے جنّت کی نعمتیں بیان کی گئی ہیں،پھر سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے زبان و شرم گاہ کی حِفاظَت سے مُتَعَلّق دی گئی ایک بشارت ذکر کی گئی ہے۔ اس کے بعد تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ ہم اس بشارت کے حقدار کس طرح بن سکتے ہیں۔ حسبِ ضرورت شرعی مسائل بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس کتاب سے کچھ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں: